.*انسانی اقدار*
انسان عادتاً استعداد اور صلاحیت کے سامنے جھکتا ہے ، اور یہ ایک امر مستحسن ہے کہ قابلیت اور صلاحیت کو سراہا جائے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اس کی قدر کی جائے چاہے وہ صلاحتیں دینی امور سے مربوط ہوں یا دنیاوی لیکن بہر حال ہر صورت میں دینی صلاحتیوں کا کوئی مقابلہ ہی نہیں خاص طور سے جب دینی صلاحیتیں دینی امور اور خدمت خلق میں صرف ہو رہی ہوں۔ اسی طرح اگر دنیاوی صلاحتیں دینی اور سماجی امور میں صرف ہو رہی ہوں تو لائق تعریف بھی ہیں اور ماجور عند الله بھی ۔ لیکن اگر دنیاوی صلاحیتوں کا مقصد صرف دنیا کمانا ، اپنی لایف سٹ کرنا ، کسی پوسٹ کو حاصل کرنا ہو تو ایسا شخص اگرچہ دیندار بھی ہو لیکن سراہے جانے کے قابل نہیں ہے ۔ اور اگر کوئی ایسے شخص کی تعریف کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ خود دنیاوی امور سے متاثر ہے اور اپنے رجحان کا پتہ دیتا ہے ۔ خدا قرآن میں قارون کا ذکر کرتے ہویے فرماتا ہے ،، فَخَرَجَ عَلى قَومِهِ في زينَتِهِ قالَ الَّذينَ يُريدونَ الحَياةَ الدُّنيا يا لَيتَ لَنا مِثلَ ما أوتِيَ قارونُ إِنَّهُ لَذو حَظٍّ عَظيمٍ ،،
وہ (ایک دن) اپنی قوم کے سامنے اپنی زیب و زینت کے ساتھ نکلا تو جو لوگ دنیاوی زندگی کے طلبگار تھے وہ کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی وہ (ساز و سامان) ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ بیشک وہ بڑا نصیب والا ہے۔
،،وَقالَ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ وَيلَكُم ثَوابُ اللَّهِ خَيرٌ لِمَن آمَنَ وَعَمِلَ صالِحًا وَلا يُلَقّاها إِلَّا الصّابِرونَ،،
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا وائے ہو تم پر! جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے اس کیلئے اللہ کا صلہ و ثواب اس سے بہتر ہے اور یہ (حکمت و منزلت) صرف صبر و ثبات کرنے والوں کو مرحمت کی جاتی ہے۔(قصص آیہ 79۔80)
ان دو آیتوں میں الله نے دو طرح کے لوگوں کا کردار پیش کیا ہے، کون کس چیز سے متأثر ہے اور کس کا رجحان کس جانب ہے ، کون دنیاوی مقام منصب کو قابل تعریف سمجھتا ہے اور کون دینی اور سماجی خدمات کو سراہتا ہے ۔ اور انسان خود اپنی قدر و منزلت کا پتہ دیتا ہے کہ وہ کس چیز کو پسند کرتا ہے ۔ امام علی علیہ السّلام فرماتے ہیں ، قیمة کل امری ما یحسنه،، انسان کی قدر و قیمت اس کی نیکی اور بھلائی کے اعتبار سے ہوتی ہے ۔
خدا اور رسول کی نظر میں سب سے قیمتی اگر کوئی شی ہے تو اس کی بندگی اس کا دین ، دینداری اور خدمت خلق ہے اب نتیجتاً اگر کوئی قابل تعریف اور ستائش ہے تو وہی ہے جو اپنی زندگی علم( دین اور دنیا) کو حاصل کرنے ، اس کے پھیلانے اور خدا کی مخلوقات کی خدمات میں گزار رہا ہو۔ اونچی تعلیم اور دولت کا حصول صرف اگر اپنی خواہشات کو پھیلانے اور پورا کرنے کے لئے کیا گیا تو صرف قارون ، قارون نہیں ہے ہم بھی قارون ہیں ۔
*محمد اکبر جلالپور*
@Quran_And_Ahlulbait_A_s_Channel
*`شئیر کرنا نہ بھولیں`*
join us
__________________&
`CHANNEL join`
https://whatsapp.com/channel/0029VaMYsUnBPzjO1WllmQ3V
*Blog.ir address*
https://quranandahlulbaitchannelkargil.blog.ir/
انسان عادتاً استعداد اور صلاحیت کے سامنے جھکتا ہے ، اور یہ ایک امر مستحسن ہے کہ قابلیت اور صلاحیت کو سراہا جائے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اس کی قدر کی جائے چاہے وہ صلاحتیں دینی امور سے مربوط ہوں یا دنیاوی لیکن بہر حال ہر صورت میں دینی صلاحتیوں کا کوئی مقابلہ ہی نہیں خاص طور سے جب دینی صلاحیتیں دینی امور اور خدمت خلق میں صرف ہو رہی ہوں۔ اسی طرح اگر دنیاوی صلاحتیں دینی اور سماجی امور میں صرف ہو رہی ہوں تو لائق تعریف بھی ہیں اور ماجور عند الله بھی ۔ لیکن اگر دنیاوی صلاحیتوں کا مقصد صرف دنیا کمانا ، اپنی لایف سٹ کرنا ، کسی پوسٹ کو حاصل کرنا ہو تو ایسا شخص اگرچہ دیندار بھی ہو لیکن سراہے جانے کے قابل نہیں ہے ۔ اور اگر کوئی ایسے شخص کی تعریف کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ خود دنیاوی امور سے متاثر ہے اور اپنے رجحان کا پتہ دیتا ہے ۔ خدا قرآن میں قارون کا ذکر کرتے ہویے فرماتا ہے ،، فَخَرَجَ عَلى قَومِهِ في زينَتِهِ قالَ الَّذينَ يُريدونَ الحَياةَ الدُّنيا يا لَيتَ لَنا مِثلَ ما أوتِيَ قارونُ إِنَّهُ لَذو حَظٍّ عَظيمٍ ،،
وہ (ایک دن) اپنی قوم کے سامنے اپنی زیب و زینت کے ساتھ نکلا تو جو لوگ دنیاوی زندگی کے طلبگار تھے وہ کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی وہ (ساز و سامان) ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ بیشک وہ بڑا نصیب والا ہے۔
،،وَقالَ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ وَيلَكُم ثَوابُ اللَّهِ خَيرٌ لِمَن آمَنَ وَعَمِلَ صالِحًا وَلا يُلَقّاها إِلَّا الصّابِرونَ،،
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا وائے ہو تم پر! جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے اس کیلئے اللہ کا صلہ و ثواب اس سے بہتر ہے اور یہ (حکمت و منزلت) صرف صبر و ثبات کرنے والوں کو مرحمت کی جاتی ہے۔(قصص آیہ 79۔80)
ان دو آیتوں میں الله نے دو طرح کے لوگوں کا کردار پیش کیا ہے، کون کس چیز سے متأثر ہے اور کس کا رجحان کس جانب ہے ، کون دنیاوی مقام منصب کو قابل تعریف سمجھتا ہے اور کون دینی اور سماجی خدمات کو سراہتا ہے ۔ اور انسان خود اپنی قدر و منزلت کا پتہ دیتا ہے کہ وہ کس چیز کو پسند کرتا ہے ۔ امام علی علیہ السّلام فرماتے ہیں ، قیمة کل امری ما یحسنه،، انسان کی قدر و قیمت اس کی نیکی اور بھلائی کے اعتبار سے ہوتی ہے ۔
خدا اور رسول کی نظر میں سب سے قیمتی اگر کوئی شی ہے تو اس کی بندگی اس کا دین ، دینداری اور خدمت خلق ہے اب نتیجتاً اگر کوئی قابل تعریف اور ستائش ہے تو وہی ہے جو اپنی زندگی علم( دین اور دنیا) کو حاصل کرنے ، اس کے پھیلانے اور خدا کی مخلوقات کی خدمات میں گزار رہا ہو۔ اونچی تعلیم اور دولت کا حصول صرف اگر اپنی خواہشات کو پھیلانے اور پورا کرنے کے لئے کیا گیا تو صرف قارون ، قارون نہیں ہے ہم بھی قارون ہیں ۔
*محمد اکبر جلالپور*
@Quran_And_Ahlulbait_A_s_Channel
*`شئیر کرنا نہ بھولیں`*
join us
__________________&
`CHANNEL join`
https://whatsapp.com/channel/0029VaMYsUnBPzjO1WllmQ3V
*Blog.ir address*
https://quranandahlulbaitchannelkargil.blog.ir/
.*انسانی اقدار*
انسان عادتاً استعداد اور صلاحیت کے سامنے جھکتا ہے ، اور یہ ایک امر مستحسن ہے کہ قابلیت اور صلاحیت کو سراہا جائے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اس کی قدر کی جائے چاہے وہ صلاحتیں دینی امور سے مربوط ہوں یا دنیاوی لیکن بہر حال ہر صورت میں دینی صلاحتیوں کا کوئی مقابلہ ہی نہیں خاص طور سے جب دینی صلاحیتیں دینی امور اور خدمت خلق میں صرف ہو رہی ہوں۔ اسی طرح اگر دنیاوی صلاحتیں دینی اور سماجی امور میں صرف ہو رہی ہوں تو لائق تعریف بھی ہیں اور ماجور عند الله بھی ۔ لیکن اگر دنیاوی صلاحیتوں کا مقصد صرف دنیا کمانا ، اپنی لایف سٹ کرنا ، کسی پوسٹ کو حاصل کرنا ہو تو ایسا شخص اگرچہ دیندار بھی ہو لیکن سراہے جانے کے قابل نہیں ہے ۔ اور اگر کوئی ایسے شخص کی تعریف کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ خود دنیاوی امور سے متاثر ہے اور اپنے رجحان کا پتہ دیتا ہے ۔ خدا قرآن میں قارون کا ذکر کرتے ہویے فرماتا ہے ،، فَخَرَجَ عَلى قَومِهِ في زينَتِهِ قالَ الَّذينَ يُريدونَ الحَياةَ الدُّنيا يا لَيتَ لَنا مِثلَ ما أوتِيَ قارونُ إِنَّهُ لَذو حَظٍّ عَظيمٍ ،،
وہ (ایک دن) اپنی قوم کے سامنے اپنی زیب و زینت کے ساتھ نکلا تو جو لوگ دنیاوی زندگی کے طلبگار تھے وہ کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی وہ (ساز و سامان) ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ بیشک وہ بڑا نصیب والا ہے۔
،،وَقالَ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ وَيلَكُم ثَوابُ اللَّهِ خَيرٌ لِمَن آمَنَ وَعَمِلَ صالِحًا وَلا يُلَقّاها إِلَّا الصّابِرونَ،،
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا وائے ہو تم پر! جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے اس کیلئے اللہ کا صلہ و ثواب اس سے بہتر ہے اور یہ (حکمت و منزلت) صرف صبر و ثبات کرنے والوں کو مرحمت کی جاتی ہے۔(قصص آیہ 79۔80)
ان دو آیتوں میں الله نے دو طرح کے لوگوں کا کردار پیش کیا ہے، کون کس چیز سے متأثر ہے اور کس کا رجحان کس جانب ہے ، کون دنیاوی مقام منصب کو قابل تعریف سمجھتا ہے اور کون دینی اور سماجی خدمات کو سراہتا ہے ۔ اور انسان خود اپنی قدر و منزلت کا پتہ دیتا ہے کہ وہ کس چیز کو پسند کرتا ہے ۔ امام علی علیہ السّلام فرماتے ہیں ، قیمة کل امری ما یحسنه،، انسان کی قدر و قیمت اس کی نیکی اور بھلائی کے اعتبار سے ہوتی ہے ۔
خدا اور رسول کی نظر میں سب سے قیمتی اگر کوئی شی ہے تو اس کی بندگی اس کا دین ، دینداری اور خدمت خلق ہے اب نتیجتاً اگر کوئی قابل تعریف اور ستائش ہے تو وہی ہے جو اپنی زندگی علم( دین اور دنیا) کو حاصل کرنے ، اس کے پھیلانے اور خدا کی مخلوقات کی خدمات میں گزار رہا ہو۔ اونچی تعلیم اور دولت کا حصول صرف اگر اپنی خواہشات کو پھیلانے اور پورا کرنے کے لئے کیا گیا تو صرف قارون ، قارون نہیں ہے ہم بھی قارون ہیں ۔
*🖋️محمد اکبر جلالپور*
@Quran_And_Ahlulbait_A_s_Channel🌹🌹🌹🌹
*`شئیر کرنا نہ بھولیں`*
❇️join us
__________________&
🌹🌺🌺🌺
`CHANNEL join`
https://whatsapp.com/channel/0029VaMYsUnBPzjO1WllmQ3V
*Blog.ir address*
https://quranandahlulbaitchannelkargil.blog.ir/